شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات


Originally written for Audacity to Write. Click on highlighted text to visit the site.


آج ایک انجانے خوف اور کرب نے مجھے یہ تحریر لکھنے پرمجبورکیا ہے۔ اگرچہ حالات کی ستم ظریفی نے ہمیں بے حس اور بے بس کر دیا تھا لیکن گماں تھا کہ ہمارے اندر اانسانیت کی رمق باقی ہے افسوس آج وہ بھی دم توڑ گئی۔ عید سے دو دن پہلے پاراچنار، کوئٹہ دھماکوں ے لرز اٹھا پھر کراچی لہولوہان ہوا تو عید سےایک دن پہلے احمد پور میں قیامت گزر گئی اور کل ملا کر دو تین سو کے قریب “انسان” مر گئے اور ہمارہ ضمیر بھی

مرنے والے تو مر گۓ اب وہ جو بظاہرحیات ہیں وہ خود نہیں جانتے کہ کب تک حیات ہیں سو تہوار مناننے میں کوئی حرج نہیں پھر بھی ہمارے کچھ حساس طبیعت کے لوگ سوال کر رہے تھےکہ عید منائی جا ئے یا نہیں؟ تو دیکھیے بہاولپور میں جل کر خاک ہو نے والے تو ان پڑھ ، خانہ بدوش ، لا لچی لوگ تھے ، پاراچنا رمیں دہشگردی کی بھینٹ چڑنے والے تو دوسرے فرقے کے لہزا عید منانے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن پھر مفتی صاحب سے فتوہ لینے کا تکلف کیا گیا ، ہاں عید منانا جائز ہے لیکن اتنے سانحات کے بعد یہ سوال بھی کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟ سوشل میڈیا کے دانشور جو مختلف برینڈز کی پچاس فیصد سیلپر اخلاقیات کاجنازہ نکال کر ایک دوسرے کو نوچ ڈالتے ہیں اور دس ہزار کی چیز کوپانچ ہزار میں مال غینمت سمجھتے ہیں وہ لالچ کے انجام پر درس دے رہے ہیں خدا نہ کرے آپ پر وہ وقت آئے کہ جب آپ کے بھائی، بہن یک بیٹے کی لاش ناقابل شناخت ہو اور آپ بے بس

shell-960x540.png

اس سانحہ کی سب سے بڑی وجہ لا شعوری اور کم علمی ہے وہ لوگ نہیں جانتے تھے کے وہ آگ سے کھیل رہے ہیں لیکن افسوس وہ اپنی لاشعوری کی اتنی بڑی قیمت چکا کر بھی آپ کی ‘تعلیم یافتہ جہالت ‘ کے نشانے پرہیں۔ ہاں اس ملک میں رہنے کے لیے بے حس ہونا ضروری ہے ہاں تم عادی ہو لاشیں اٹھانے کے ، ہاں تم اپنی ہر خوشی بارود کے دھواں کی نظر نہیں کر سکتے، ہاں تم آہوں اورسیسکیوں کے موسم بھی مسکرانا نہیں چھوڑتے، ہاں تمھاری مسکراہٹیں دشمن کی بندوقوں سے زیدہ طاقتور ہیں، ہاں تمھارے حصے میں خوشیاں ذرہ کم لکھی گیئں ہیں، ہاں تمھیں بھی عید مناننے کا حق ہے ہاں تم ہر حادثے کا بوجھ دل پر لیئے سوگ نہیں منا سکتے لیکن یہ آگ بے رحم ہے اس کی شعلے نہیں تواس کی تپش سے تو کوئی بھی محفوظ نہیں ناجانے کب ہوا کا رخ تمھارے آشیانے کی طرف ہو۔ تم اتنے سفاک بھی مت بنو کے جب تم کسی حادژے کا شکار ہو جاؤ تو لوگ تمہں ہی ذمہ دار قرار دے ریں، اتنے بے رحم بھی مت بنو کے جب تم اپنے کسی پیارے کی موت کا ماتم کر رہے ہو تو سارا شہرخوشی کے شادینے بجارہا ہو،اتنے لاتعق بھی مت بنو کے تم کی عزیز کا جنازا لے کر نکلو اور کوئی کندھا دینے والا نہ ہو۔ اتنے بے زاربھی مت ہو کہ جب تم انتہای اذیت میں کسی کو پکارؤں اور کوئی جواب دینےوالا نہ ہو۔

مانا کے تم تھک چکے ہو لیکن اپنے اندر رہی سہی انسانیت کو ، اپنے ضمیر کی آواز کو ، اپنے بچے کچھے ا حساس کو، امید کی جلتی بجھتی لو کو کبھی مت بجھنے دینا۔ خدارا آپ کے منہ سے نکلے دوتسلی کے بول ملک بھر میں چاروں طرف بکھری کٹی پھٹی لاشوں کے لواحقین کا دکھ بانٹ سکتے ہیں۔ رہی بات میڈیا کی تو اتنی لمبی رمضان ٹرامیشن کرے کے اتنی محنت سے روضے کے ساتھ بھرپور رقص وسرور کی محافل کی ریکاڈنگ کو آن ایئر نہ کیا تو وہ برباد ہو جائیں گے۔ چنر لاشیں ان کا کاروبار بند نہیں کروا سکتیں۔ اور حکومت سے گلہ کرنا بے سود ہے البتہ عید سادگی سے منانے کا زبانی اعلان ہی کافی ہوتا اگر وہ واقعی محسوس کر سکتے کے اپنے گھر سے لاش اٹھانے پر کیا بیتی ہے

Advertisements

Speak your mind.Give a voice to your thoughts.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s