نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے


10420070_10154242814470442_4827211361681031392_n (1)

“سانحہ ماڈل ٹاون” کس کو یاد نہیں؟ آہ! وہ دن جب100 نہتے، معصوم شہریوں کو بے دردی سے گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا اور14 کوسفاکی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا! 12،13 گھنٹے تک پولیس کی درندگی کا گواہ ہمارا میڈیا ہے۔ ہمارے شیر دل پولیس جوانوں نے نشانہ باندھ کر عورتوں کے چہروں پر گولیاں برسائیں ، سفید ریش بزرگوں پر لاٹھیاں برسائیں انہیں سڑکوں پر گھیسٹا، بے ہوش زخمی نوجوانوں کو بھی نہ بحشاء۔ ایسے دلخراش مناظر دیکھنے میں آۓ کے روح کانپ گئ ایسی فرعونیت اور حیوانیت، ایسا طاقت اور گھمنڈ کا شرمناک مظاہرہ آمرانہ دور میں بھی نہ دیکھا گیا۔ اس سانحہ میں پولیس کا کردار کراۓ کے قاتل جتنا تھا کیونکہ ان کی قیادت ایک ایس پی نہیں ایک پولیس انسپکٹر نہیں بلکہ لیگی کارکن گلو بٹ کر رہا تھا۔ جیس کے گنڈاسے نے کیئ گاڑیوں کے شیشے توڑے ۔ تیرہ گھنٹے پولیس گولیاں برساتی رہی اور پنجاب کا وارث سوتا رہا!اور اس پر ظلم اورڈھٹا ئ یہ کے مقتولوں کے لواحقین کے خلاف ہی ایف آی ار درج کر دی گيئ۔ شریف خاندان کےمحل سے چند قدم کے فیصلے پر قیامت بپا ہو گيئ اور دونوں بھائی بے حبر رہے اس سے بڑا مزاق اور کیا ہو گا؟ کس اخلاقی جواز کے تحت شریف خاندان آج بھی حکومت پر قابض ہے؟ یہ وہ سچ ہے جیس کی گونج 2 سال سے سنائی دے رہی ہے لیکن نہ صاحب اقتدار اور نہ ہی “صاحب احتیار” کے کان پر جوں تک رینگی۔ لیکن قانون قدرت ہےکہ مظلوم کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اور جب مظلوم خود آٹھ کھڑا ہوتا ہے تو فتح اسکا مقدر بنتی ہے۔ سترہ جون کو ظلم وبربریت اور ریاستی دہشت گردی کی وہ مثال قائم کی گیئ جیس کے زخم آج بھی تازہ ہیں مظلوموں کی روحیں اور ان کے ورثا آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ یہ 14 مقتولین ن لیگی جمہوریت کے کوڑھ زدہ سینے پر سجے وہ تمغے ہیں جن کی چمک کبھی ماند نہ ہو گی۔ پورا پاکستان عینی شاہد ہے ہر اینگل سے فوٹیج موجود ہے آہ پکار کرتی عورتیں چیہتے بچے رحم کی اپیل کرتے بوڑھے بھی جوانوں کے ارادوں کو ٹس سے مس نہ کر سکے علاقہ میدان جنگ تو بناہوا تھا اور پولیس کے جوان “مال غنیمیت” سمیٹتے نظر آۓ لیکن پھر بھی جوڈیشل کیمیشن ، انکوراياں، کمیٹیاں اور ہزار ڈرامے بازایاں بھی آج تک انصاف نہ دلا سکی۔ اب ظالم ایک طرف اور مظلوم ایک طرف ہیں انسانیت رو رہی ہے جمہوریت ماتم کررہی ہے انسانیت شرمسار ہے انسانی آزادیاں نادم ہیں یہ معاشرہ ایسا تو نہیں تھا یہاں تو عورتوں کا احترام ہوتا تھا، یہاں تو بزرگ شہریوں کو ہاتھ پکڑ کے سڑک پار کرواتے تھے نہ کہ سیاسی اختلافات کی بنا پر انہیں سڑکوں پر گھیسٹا جاتا۔ ایسی جمہوریت پر تین حرف جیس میں عوام کے حقوق غضب کیے جاتے ہوں، جیس میں گولیاں برسائ جاتی ہوں ۔ جیس میں خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہو۔اوراب اب شہدا کے لیے انصاف کی تحریک پھر سر اٹھا رہی ہے جیس کی قیادت خود طاہر القادری کریں گیے۔ اب اگر کوئ لیگی افلاطوں یا کوئ خود ساختہ تجزيہ نگار یا دانشور یہ باور کروانے کی کوشیش کرتا ہے کہ عوامی تحریک دو سال تک سوئ رہی اور انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد بند کر دی ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے ان دو سالوں میں عوامی تحریک نے ہر درواذہ کٹھکھٹایا ہر فورم پر آواز آٹھائ وکیل کیے، عدالتوں میں پیشیاں بھگتی، دو سال تک قانونی جنگ لڑئ ، ہم کبھی بھی اپنے شہدا کو نہ بھولے نہ بھولیں گیے لیکن اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ جیس ملک میں جنگل کا قانون رائج ہو وہاں حق کے لیے نکلنا بغاوت نہیں ہوتی۔ جہاں انصاف حکمرانوں کے گھر کی لونڈی ہو وہاں فیصلے سڑکوں پرہی ہوتےہیں۔اورعوامی تحریک کے پاس بھی سڑکوں پر آنے کے سوا کوئ چارہ نہیں۔ اور رہی بات طاہرالقادری کے بیرون ملک دورں کی تو عرض ہے کے طاہرالقادری کسی آمر کے گود میں پلنے والے چھانگامانگا کے سیاسیت دان نہیں نہ ہی معاہدہ کر کے جدہ بھاگنے والوں میں سے ہیں، نہ ہی ان کی آف شور کمپنیاں ہیں نہ بیرون ملک فلیٹ نہ ان پر کرپیشن کے الزام ہیں، نہ ہی ان کے بیرون ملک دورے بعمہ اہل وعیال عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہوتے ہیں۔ وہ پاکستان عوامی تحریک سے پہلے منہاج آلقران انٹرنیشنل کے سربرہ ہیں جیس کا نیٹ ورک 90 سے زائد ملکوں میں پھیلا ہوا ہے اور یہ دورے انتہائ مصروفیت پر مبنی ہوتے ہیں نہ کے برانڈنڈ گھڑیوں کی خریداری میں گزرتے ہیں اور طاہرالقادری نے اس ملک کو کالج، یونیورسٹیاں، سکول، ویلیفئرکے ادارے دیےہیں کیئ سال اس قوم کی فکری، اخلاقی، سماجی، اصلاح میں گزاۓ وہ ایک آزاد شہری ہیں وہ جب چاہیں پاکستان آئیں گے اور اس بار وہ ماڈل ٹاون کے لوحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے آ رہے ہیں۔ اور اگر کسی کو طاہرالقادری کےپاکستان آنے اوراحتجاج سے کوئ تکلیف ہے تو براہ کرم انصاف کے حصول میں ورثا ء کا ساتھ دیں اورزیادہ نہیں تو جسٹس باقر علی کمیشن کی رپوٹ شائع کروا دیں ورنہ عوامی تحریک کے کارکن دیوانے نہیں کہ جون کی گرمی میں روزے کے ساتھ کھلے آسمان تلے مال روڈ پر دھرنہ دیں۔ اور اگر اس بارحکومت نے کوئ شرارت کرنے کی کوشیش کی تو حکمرانوں کے لیے بس اتنا پیغام ہے ظلم اتنا کرو جتنا سہہ سکو کیوںکہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا ہے

Kiran Sadique
Team Operation Pakistan

Advertisements

One Reply to “نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے”

Speak your mind.Give a voice to your thoughts.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s