دہشتگردی ہوتی رہی ہم تماشا دیکھتے رہے


Also published on http://leader.com.pk/clm/7


کل لاہور میں رہائش پذيرکزن سے بات ہورہی تھی۔ گھر ميں بچوں کے ہنگامے کی وجہ پوچھی تو پتا چلا کےلاہور کے تمام تعلیمی ادارے ایک ہفتے شدید سردی کی وجہ سے بند ہیں۔ کیا عجیب اتفاق ہے کہ سردی کی شدت طالبان کی تعلیمی اداروں کو دی جانے والی دھمکی کے فورا بعد محسوس کی گئی۔ سردی کی شدت کی وجہ سے پنجاب حکومت کے چھوٹے بڑے تمام عہدیداروں کے ہاتھ پاوں ٹھنڈے پڑ گئے اور بڑی سوچ بچار کے بعد سکول ہی بند کر دینے کا اعلان کر دیا گیا، قصہ ختم اب طلبان ہمارے بچوں کی طرف آنکھ اٹھا کرتو دیکھیں۔ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ نہ بچے سکول جائیں گے نہ انکو کوئی خطرہ ہو گا۔ ان مسند اقتدار پر بیٹھے عقل و شعور سے عاری حکمرانوں سے اب کون پوچھے کہ آخر کب تک سکول بند رکھیں گے؟ کب تک ہمارے بچے خوف کے سائے میں رہیں گے؟ کب تک مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیج کر ان کی واپسی تک تڑپتی رہیں گی؟ مہنگائی ، بے روز گاری کا عذاب کم تھا کہ اب اس قوم پہ جہالت کا عذاب بھی مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ کچھ دن کے بعد پھر سکول کھولنا پڑیں گے۔ اب میرا سوال ہے کہ ایک ہفتے میں کون سا تیر مار لیا گیا ہے؟ ایک ہفتہ آنکھیں بند کر لینے سے خطرہ ٹل تو نہیں گیا۔ یا کسی نے بچوں کی سیکورٹی کی “ذمہ واری” لے لی ہے؟ کہاں ہیں وہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے؟ دھشتگری کو جڑ سے ختم کر دینے کے وعدے کرنے والے؟ روشن پاکستان کے سبز خواب دکھانے والے؟ “ذمہ دار” آخر کون ہے؟ نا اہل حکمران یا خود بے شعور عوام؟ کیا یہ والدین بھی قصور وار نہیں جو سانحہ پشاور، سانحہ چار سدہ کے بعد بھی خاموش رہے؟ دہشتگردی ہوتی رہی ہم تماشا دیکھتے رہے. اپنی باری کا انتظار کرتے رہے۔ کیا اب اپنے آنگن ميں کھلے معصوم پھولوں کو خطرے میں دیکھ کر ہمارے احساس جاگیں گے؟ کیا اب ہم ان طاقت کے نشے میں چور لیڈروں کے گریبان پکڑ کر سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کر سکیں گے؟ یا پھر پشاور کے بچوں کی طرح باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کا خون بھی رائيگاں چلا جائے گا؟ کیا پچاس ہزار جانيں دے کر بھی ہم کسی فرضی جنگ کا قرض نہیں چکا سکے؟ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو شہید اور غازی کہنے والے آزاد کیوں ہیں؟ داعش اور طالبان کے حامی مولوی عبد العزيز اور ان جیسے دیگر شر پسند ملا اب تک کیوں دنددناتے پھر رہے ہیں؟ کیوں ایسے مدارس کے خلاف اب تک کاروائی نہیں ہوئی؟ کیوں دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو پکڑا نہیں گیا؟ کیوں تبلیغ کی آڑ ميں مسلکی و مذہبی منافرت پھلانے والوں پر پابندی نہیں لگائی جاتی؟ ہمارے وزیر دفاع دہشت گردوں کو بچانے کی سر توڑ کوششوں میں کیوں لگے ہیں؟ ہمارے مذہبی راہنما اسلام کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اور ان سب سے اہم سوال یہ کہ آخر ہم عوام اپنے اوپر مسلط اس عذاب سے جان کیوں نہیں چھڑواتے؟ خود اپنے حق کیلئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ ہمیں بے حسی کی نیند سے جاگنے کیلئے مذید کتنی لاشیں اٹھانا ہوں گی؟


written by Kiran Sadique
Team Operation Pakistan

Advertisements

Speak your mind.Give a voice to your thoughts.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s