وجود زن عذاب الہی یا تصویر کائینات میں رنگ


دو دن سے سوشل میڈیا سائیٹس پر ایک ویڈیو بڑی زور و شور سے شیئر کی جا رہی ہے۔ دیکھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم پڑا ایک پولیس افسر کسی خاتون سے انتہائی نازیبا الفاظ میں کوئی جرم قبول کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ساتھ ہی اپنی مردانگی کا اظہار کرتے ہوئے اس خاتون کو تھپڑ بھی مار رہا ہے۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر کسی بھی انسان کا خون غصے سے کھول اٹھا ہو گا۔ مگر اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد مجھے غصے سے زیادہ دکھ اور تکلیف ہوئی۔ کچھ دن پہلے ایک محترمہ نے فیس بک ایک سٹیٹس لکھا تھا۔ فرماتی ہیں “عورت کیلئے آزادی مانگنے والے نام نہاد فیمینسٹ اور لبرلز دراصل عورت تک آزادی کی رسائی چاہتے ہیں۔” ویسے تو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں کہ اس قسم کے موضوع پر بحث کرنے اور اس طرح کے خیالات رکھنے والے لوگوں کی مخالفت کرنے کا انجام کیا ہو گا مگر پھر بھی فطرت اور ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ قلم اور کاغذ ہی میسر ہے تو اسی کا سہارا لیکر اپنا مئوقف یہ سوچ کر آپکے سامنے ضرور رکھنا چاہوں گی کہ

“شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات”

میں اس معاشرے میں رہتی ہوں جہاں عورت کی اس طرح تذلیل کوئی نئی بات نہیں۔ ہم نے ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات دیکھے۔ عورتوں کی عصمت دری ہوتی رہی۔ ملا کہتے رہے کہ “عزت لٹ جائے تو عورت کو چاہیئے کہ اگر چار گواہ نہ موجود ہوں تو خاموشی اختیار کر لے” اور اگر کسی عورت نے اس معاشرے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے لیئے انصاف مانگا بھی تو اسے نشان عبرت بنادیا گیا کل ہی کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے نے مختاراں مائی کو ایک ایسا کردار بنا کر پیش کیا کہ دوبارہ کوئی عورت آج تک اپنے حق کی بات کرنے کی جرات نہ کر سکی۔ معاشرے کے سب ظلم و ستم ایک طرف رکھیئے۔ آج میں ان خواتین سے مخاطب ہونا چاہوں گی جو 2015 میں بھی اسی ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں اور معاشرے کی تمام نا انصافیاں یہ سوچ کر برداشت کرتی ہیں کہ اپنے حق کیلئے آواز اٹھانا شاید کوئی باعث شرم بات ہے۔ یا شائد جو لوگ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں وہ معاشرے میں بے حیائی چاہتے ہیں۔ کیا عجیب مضحکہ خیز سوچ ہے۔ ذرا یہ بات کرنے سے پہلے معاشرے میں ہونے والے ان جرائم پر تو نظر ڈالیں۔ کتنے عصمت دری کے واقعات میں عورت کی آزادی مانگنے والے ملوث تھے؟ شائد ایک بھی نہیں۔ اور کتنے واقعات میں نام نہاد مذہب کا چورن بیچنے والے درندے ملوث تھے؟ واقعات لکھنا شروع کروں تو وقت اور صفحہ دونوں کم پڑ جائیں گے۔

خدارا ان مذہب کے بے غیرت بیوپاریوں کے چنگل سے نکلیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے جب میں عورت کو ان مذہب کے نام نہاد ٹھیکے داروں کے ہاتھوں میں یرغمال بنا دیکھتی ہوں۔ کبھی پردے کا بہانہ کر کے، کبھی مخلوط تعلیم کا بہانہ کر کے اور کبھی عورت کے کام کرنے کو بہانہ بنا کر یہ لوگ عورت پر ہونے والے مظالم کا ذمہ دار خود عورت ہی کو ٹھہراتے ہیں۔ میں اس سوچ کے حامل افراد سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر عورت کو دیکھ کر آپ لوگ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتے تو ذمہ دار کون ہے؟ عورت اور اس کے لباس کو چھوڑیں یہاں تو تین سال کی معصوم بچیاں بھی ان جنسی درندوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔ مدرسوں میں کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تو اب معمول بن چکے ہیں۔ کیا ان بچوں کو بھی برقعہ پہنانا ہو گا؟ مگر بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔ کفن پہنے، زندگی سے عاری وجود جو منوں مٹی تلے دبا ہے، ان لوگوں کی درندگی سے تو وہ لاش بھی محفوظ نہیں ہے۔ کوئی مجھے سمجھائے گا کہ جس معاشرے میں مرنے کے بعد بھی ایک عورت کی عزت محفوظ نہیں ہے، وہاں آپ کس منہ سے عورت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں؟ عورت پہ الزام ڈالنے کا سلسلہ یہاں پہ ختم نہیں ہوتا۔ سیلاب آئیں یا زلزلے، ہمارے ملا حضرات لٹھ اٹھا کہ عورت کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ ویسے عقائد کے اختلافات کے باعث ہمارے شیعہ سنی دیوبندی ملا ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے نہیں تھکتے مگر عورت ایک ایسا انقلابی موضوع ہے جس نے ان تمام فرقوں کے مولویوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔ معاشرے میں ہونے والا ظلم، نا انصافی، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے بارے میں بات کرتے انکی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں مگر قدرتی آفات آتے ہی عورت کی کمر کے ہلنے کو موضوع بحث بنا لیتے ہیں۔ میں یہاں کوئی سائنسی دلائل نہیں دوں گی کیونکہ ہم سب جانتے ہیں انہی ملا حضرات نے کچھ سال قبل سائنس کو حرام قرار دیا تھا ۔ ٹی وی کو شیطان کا ہتھیار اور لائوڈ سپیکر کے استعمال کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ وہ الگ بات ہے کہ آج انہی شر پسند ملائوں کو یہ اشیاء استعمال کرتا دیکھ کر یقین کرنے کو دل چاہتا ہے کہ واقعی یہ شیطانی آلات ہیں۔ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے نعوذباللہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضہ تک کو نہ بخشا اور بعد میں خود اپنی داڑھی کی آڑ میں نہ صرف بخشش کا سرٹیفیکیٹ لے لیا بلکہ دنیا میں آئے روز انہی “قدرتی آفات کا سبب” بننے والی خواتین کے ہاتھ تھام کر تصاویر بنوائیں۔ جو کام عوام کیلئے ناجائز اور حرام ہے وہ خواص کیلئے جائز کیونکر ہو گیا؟ بات کرنے کا مقصد یہ ہے بحثیت ایک آزاد انسان آخر ہم کب تک ان شر پسند ملائوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے؟ کب تک ہم ان کی سوچ کو معاشرے میں زندہ رکھیں گے؟ کب تک ہم عورت کو ہر عذاب کی وجہ گردانتے رہیں گے؟ کب تک ہم معاشرے کے 68 فیصد عوام (خواتین) سے جینے کا حق چھیننے والوں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے؟ سوال ایک پولیس والے کی گندی زبان کا نہیں ہے۔ سوال اس سارے معاشرے کا ہے۔ پرسوں ایک ملا نے کہا زمین پہ عذاب عورت کے لباس کی وجہ سے آیا، کل ایک پولیس والے نے عورت کو بھرے سٹیشن میں رسوا کیا اور آج جامعہ کراچی میں ایک طلبہ جماعت کے نوجوانوں نے خواتین طالبات پر تشدد کیا کیونکہ وہ کرکٹ کھیل رہی تھیں۔ عورت کو کمتر سمجھنے، اس سے نفرت کرنے اور اس پر تشدد کرنےکا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہم افراد معاشرے کی اکائی اس سوچ پر تین حرف بھیج کر عورت کو عزت نہیں دینا شروع کریں گے

تحریر : صدف علوی

Advertisements

One Reply to “وجود زن عذاب الہی یا تصویر کائینات میں رنگ”

Speak your mind.Give a voice to your thoughts.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s